بنگلورو،18 ؍(ایس او نیوز؍ پریس ریلیز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے اخباری اعلامیہ میں سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک میں اقلیتیوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کئے بغیر ریاستی حکومت صرف کاغذی وعدوں کی بنیاد پر یوم اقلیتی حقوق منارہی ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے 2013کے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ کانگریس بر سر اقتدار آئے گی تو رنگا ناتھ مشرا کمشن کے سفارشات کو لاگو کیا جائے گا۔ لیکن مشرا کمیشن کے ایک سفارش کو بھی ریاست میں لاگو نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومت نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وقف بورڈ اراضی پر جو غیر قانونی قبضہ جات ہوئے ہیں اس کی بحالی کے لیے ایک ایک انچ کا سروے کرنے کا حکومت نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔ عبدالحنان نے کہا کہ وقف بورڈ اراضی میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے نمائندوں پر بدعنوانی کے الزامات ہیں ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کس کو بچانے کے لیے وقف بورڈ اراضی پر سروے کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ اسی طرح اقلیتیوں کو بجٹ میں اضافہ کرنے کے وعدے کو بھی حکومت نے بھی مکمل طور پر پورا نہیں کیا ہے۔ 2016-17کے بجٹ کے دوران SDPIنے ریاست گیر احتجاج کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقلیتوں کے لیے 10ہزار کروڑ روپئے مختص کرے۔ لیکن حکومت نے ہمارے مطالبے کو نہیں مانا ۔ فنڈ کی کمی وجہ سے اقلیتوں کو جو اسکیم پہنچنا تھا وہ نہیں پہنچ سکا۔ شادی بھاگیہ اسکیم اس کی مثال ہے جس میں آج بھی ہزاروں درخواست نامے صرف فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے زیر التوا ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم 15نکاتی پروگرام کمیٹی جس کا میعاد 2013میں ختم ہوا تھا ۔ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے ساڑھے چار سال مکمل ہونے کے باوجود بھی اس کمیٹی کا قیام عمل میں نہیں آیا۔ یہ بھی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اسی طرح UAPAقانون کے تعلق سے ایس ڈی پی آئی نے ملک گیر مخالفت درج کرکے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے۔ایس ڈی پی آئی نے مطالبہ کیا تھا کہ ایک کمیٹی قائم کرے جس میں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج چیئر پرسن اور دیگر افسران پر مشتمل ہو۔ جس سے UAPAکے تحت گرفتار کرنے سے پہلے اس کمیٹی سے اجازت لینا ہوگا۔ اس پر بھی حکومت نے کوئی توجہ نہیں دیا ہے۔ ریاست کرناٹک میں لاء اینڈ کا مسئلہ ہے۔ آج درگاہوں پر حملہ ہورہا ہے اور مسلم نوجوانوں پر حملہ ہورہاہے۔ یہاں تک جیل میں بھی مسلم نوجوانوں پر حملہ ہوا ہے۔ لیکن ان تمام مسائل کے رہتے ہوئے حکومت بڑے شان سے یوم اقلیتی حقوق منا رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرکے آنے والے اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان نے کہا کہ پارٹی آنے والے دنوں میں حکومت کی حقیقت کو عوام تک پہنچائے گی اورریاست میں جب تک اقلیتوں کو ان کا مکمل حقوق نہیں مل جاتا ایس ڈی پی آئی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔